مظفرگڑھ: بیٹی کے مقدمے میں ملزم کی بریت پر باپ نے عدالت کے باہر خود کو آگ لگا لی
مظفرگڑھ: جمعہ 31 اکتوبر کو مظفرگڑھ کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے مرکزی گیٹ کے باہر 45 سالہ شخص اللہ بخشایا ولد اللہ وسایا نے خود کو آگ لگا لی۔ وہ موضع والوٹ، شاہ جمال کا رہائشی تھا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعے میں متاثرہ شخص کا تقریباً 45.5 فیصد جسم جھلس گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسے تشویشناک حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال مظفرگڑھ منتقل کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کا تعلق تقریباً دس سال پرانے مقدمے سے بتایا جا رہا ہے، جس میں متاثرہ شخص کی بیٹی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ والد گزشتہ تقریباً نو سال سے انصاف کے حصول کے لیے مقدمہ لڑ رہا تھا۔
رپورٹس کے مطابق حال ہی میں ضلعی عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزم کو شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔ بعض رپورٹس میں ملزم کو بااثر بھی قرار دیا گیا ہے۔
واقعے کی اصل وجوہات اور محرکات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔